آئے اور دکھ کا کرے آ کے مداوا کوئی
آئے اور دکھ کا کرے آ کے مداوا کوئی
میری دنیا میں نہیں میرے علاوہ کوئی
کبھی افلاک کبھی زیر زمیں رہتے ہیں
ہم فقیروں کا بھی ہوتا ہے علاقہ کوئی
میرے حجرے میں فقط دل کی چمک ہوتی ہے
اور کرتا ہے چراغوں کا تقاضا کوئی
دشت وحشت میں کہاں صدق و صفا باقی ہے
ڈھونڈ کر لا تو ادھر کام کا بندہ کوئی
سیکھ آداب محبت دل ناداں پہلے
عرض کرنے کا بھی ہوتا ہے سلیقہ کوئی
دل سے احساس کی دولت کا زیاں ہو جانا
اس سے بڑھ کر نہیں دنیا میں خسارہ کوئی
میں ترے حسن کی تعریف میں کیا بات کہوں
تو تخیل ہے نہیں جس کا کنارہ کوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.