بیکسی کی تصویریں سر خوشی کی تصویریں
بیکسی کی تصویریں سر خوشی کی تصویریں
ہم نے دونوں دیکھی ہیں زندگی کی تصویریں
تیرگی کے ایواں بھی پر فریب ہیں کتنے
ہر طرف ہیں آویزاں روشنی کی تصویریں
دیکھتے ہیں جب بھی ہم روح کانپ جاتی ہے
دوستی کے پردے میں دشمنی کی تصویریں
وقت کے دھندلکوں میں گھر کے رہ گیا انساں
کتنی دھندلی دھندلی ہیں آدمی کی تصویریں
مسکراتی صبحوں کی بھیرویں کا کیا کہنا
دل میں گنگناتی ہیں راگنی کی تصویریں
شہر حسن میں اکثر بام پر نظر آئیں
ڈبڈبائی آنکھوں میں دلکشی کی تصویریں
غرق مئے نظر آئے جب بھی بادہ کش مضطرؔ
پھر گئیں نگاہوں میں تشنگی کی تصویریں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.