بزم امکاں میں رہوں کون و مکاں تک دیکھوں
بزم امکاں میں رہوں کون و مکاں تک دیکھوں
ایک آتا ہے نظر چہرہ جہاں تک دیکھوں
ہو گئیں عظمت انسان کی راہیں تاریک
ایک انسان کی میں راہ کہاں تک دیکھوں
حسرت دید صنم حاصل عرفان صنم
دیکھنا چاہوں تو اک اجڑے مکاں تک دیکھوں
میرے افسانے سے ہے تیرا فسانہ قائم
چاہ زنداں سے ترے حسن بیاں تک دیکھوں
مسکراہٹ ترے ہونٹوں پہ مرے قتل کے بعد
حسن معصوم تجھے حد گماں تک دیکھوں
چشم آہو میں نہاں موج تلاطم پاؤں
حلقۂ زلف سیہ کوہ گراں تک دیکھوں
دیکھ لوں حسن ازل تاب کہاں ہے واصفؔ
حسن انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.