نمی کا نشاں تک نہیں گھاس پر
نمی کا نشاں تک نہیں گھاس پر
گھٹائیں برستی رہیں رات بھر
بدن ہے کہ بہتی ہوئی چاندنی
لہو ہے کہ جلتی ہوئی دوپہر
نئے ابر رحمت سے ڈرنے لگے
پرانے مکانوں کے دیوار و در
کہیں ہنس رہی ہوگی وہ اس سمے
میں چپ ہو گیا ہوں یہی سوچ کر
زمانہ ہوا تجھ کو دیکھے ہوئے
کبھی خواب کی سیڑھیوں سے اتر
تری یاد آتے ہی یاد آ گیا
گھنے جنگلوں میں ہوا کا سفر
کوئی کب کسی کا ہوا ہے یہاں
میں ارشادؔ سب جانتا تھا مگر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.