Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نمی کا نشاں تک نہیں گھاس پر

ارشاد حسین کاظمی

نمی کا نشاں تک نہیں گھاس پر

ارشاد حسین کاظمی

MORE BYارشاد حسین کاظمی

    نمی کا نشاں تک نہیں گھاس پر

    گھٹائیں برستی رہیں رات بھر

    بدن ہے کہ بہتی ہوئی چاندنی

    لہو ہے کہ جلتی ہوئی دوپہر

    نئے ابر رحمت سے ڈرنے لگے

    پرانے مکانوں کے دیوار و در

    کہیں ہنس رہی ہوگی وہ اس سمے

    میں چپ ہو گیا ہوں یہی سوچ کر

    زمانہ ہوا تجھ کو دیکھے ہوئے

    کبھی خواب کی سیڑھیوں سے اتر

    تری یاد آتے ہی یاد آ گیا

    گھنے جنگلوں میں ہوا کا سفر

    کوئی کب کسی کا ہوا ہے یہاں

    میں ارشادؔ سب جانتا تھا مگر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے