بار بار آزما کے چھوڑ دیا
بار بار آزما کے چھوڑ دیا
اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
چشم ساقی نے مست کر ڈالا
قلزم مے پلا کے چھوڑ دیا
ہم یہ سمجھے کہ روبرو وہ ہیں
آئنہ یوں دکھا کے چھوڑ دیا
نام اپنا لیا مگر مجھ کو
میرا قصہ سنا کے چھوڑ دیا
ناخدا نے سفینۂ امید
عین طوفاں میں لا کے چھوڑ دیا
یا علی کہہ کے اس کو اپنایا
اس نے واصفؔ بنا کے چھوڑ دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.