شب نشاط بہ عذر قدوم یار برس
شب نشاط بہ عذر قدوم یار برس
کبھی تو ڈھنگ سے اے ابر نو بہار برس
ہوا کے راگ پہ ہے تیرا شور تال کی ڈور
جو بار بار ضرورت ہو بار بار برس
اس آرزو میں کہ اک رات وہ بھی ہوں تو بھی
ابد کی گود میں کاٹے ہیں تین چار برس
شہوں کے قصر تو شاداب ہیں بہر موسم
کہیں بہ پاس گدایان رہ گذار برس
تجھے قسم مری مژگان غم کی ابر کرم
بیاد محفل یاران و بزم یار برس
وہ کفش ہائے زر افشاں وہ آنچلوں کے نشاں
برائے زینت خوبان طرح دار برس
کلائیوں کی وہ شمعیں وہ پھول سے چہرے
برائے ماہ جبینان گلعذار برس
برس کہ گرد کدورت دلوں سے دھل جائے
بہ جمع خاطر احباب غم گسار برس
زمانہ کہتا ہے اب خار و خس کا حق پہچان
بروئے دشت و بیابان و کہسار برس
کسی کے سقف و در و بام کو حقیر نہ جان
بہ کاخ کہنہ و املاک زرنگار برس
غزل عزیزؔ کی مصرع عزیزؔ کا عابدؔ
برس برس کے دن اے ابر نو بہار برس
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.