تم اپنے آپ میں ایسا کرو اک راہبر پیدا
تم اپنے آپ میں ایسا کرو اک راہبر پیدا
کرے اپنے تدبر سے نئی جو رہ گزر پیدا
تمھارے واسطے بھی کوئی کوہ طور جل جاتا
وہی ذوق تجسس تم بھی کر لیتے اگر پیدا
تمہاری اک صدا پر کوہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے
کرو تو حوصلہ ایسا کرو ایسا جگر پیدا
اگر تم جلوۂ محبوب کے مشتاق بنتے ہو
تو ہے یہ شرط کر لو دید کے قابل نظر پیدا
اسیران قفس خالی دعا سے کچھ نہیں ہوگا
کرو زنجیر کی آواز سے زنداں میں در پیدا
چمن والے اسی کو نام دیتے ہیں ترقی کا
جہاں کھلتے تھے پہلے پھول ہوتے ہیں شرر پیدا
ہمارے فکر و فن کی بھی کوئی قیمت ہو دنیا میں
خداوندا اگر کر دے کوئی بالغ نظر پیدا
کسی کے دل تڑپنے کی خبر تم بعد میں پوچھو
کرو اے نورؔ اپنی آہ میں پہلے اثر پیدا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.