Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آنکھیں ملتے ہوئے بستر سے نکل آیا ہوں

ثناء اللہ ظہیر

آنکھیں ملتے ہوئے بستر سے نکل آیا ہوں

ثناء اللہ ظہیر

MORE BYثناء اللہ ظہیر

    آنکھیں ملتے ہوئے بستر سے نکل آیا ہوں

    کسی ملزم کی طرح گھر سے نکل آیا ہوں

    دیکھ سکتا نہ تھا یاروں کی جبیں پر شکنیں

    سر جھکائے ہوئے منظر سے نکل آیا ہوں

    کھل رہے ہیں مری آنکھوں پہ کئی اور افلاک

    میں کہ اب گردش محور سے نکل آیا ہوں

    تو ملا ہے کہ گئی عمر پلٹ آئی ہے

    کتنا لڑکا سا میں اندر سے نکل آیا ہوں

    لوگ دیکھیں گے ترے دل سے نکلنا میرا

    دیوتا ہو کے میں پتھر سے نکل آیا ہوں

    تیرگی اوڑھ کے جب سو گئیں ساری سڑکیں

    میں ٹھٹھرتا ہوا دفتر سے نکل آیا ہوں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے