آنکھیں ملتے ہوئے بستر سے نکل آیا ہوں
آنکھیں ملتے ہوئے بستر سے نکل آیا ہوں
کسی ملزم کی طرح گھر سے نکل آیا ہوں
دیکھ سکتا نہ تھا یاروں کی جبیں پر شکنیں
سر جھکائے ہوئے منظر سے نکل آیا ہوں
کھل رہے ہیں مری آنکھوں پہ کئی اور افلاک
میں کہ اب گردش محور سے نکل آیا ہوں
تو ملا ہے کہ گئی عمر پلٹ آئی ہے
کتنا لڑکا سا میں اندر سے نکل آیا ہوں
لوگ دیکھیں گے ترے دل سے نکلنا میرا
دیوتا ہو کے میں پتھر سے نکل آیا ہوں
تیرگی اوڑھ کے جب سو گئیں ساری سڑکیں
میں ٹھٹھرتا ہوا دفتر سے نکل آیا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.