چاند کے انتظار میں تارے
چاند کے انتظار میں تارے
ڈوبتے جا رہے ہیں بے چارے
پوچھتے کیا ہو وجہ بربادی
آشیاں میں پڑے تھے انگارے
ہم کہاں ظلم آشنا ہوتے
ہم نگاہ کرم کے تھے مارے
ہو گئی دید موت سے پہلے
آج ارماں نکل گئے سارے
خود تو ڈوبے صنم بھی لے ڈوبے
شہر میں آ بسے تھے بنجارے
ہے وہی کشتہ زندۂ جاوید
خوئے تسلیم جس کو تو مارے
آج اشکوں نے آبرو رکھ لی
یوں تو عشاق تھے بہت سارے
دل کے ٹکڑوں میں دل سلامت ہے
جیسے قرآں کے ہو گئے پارے
آج واصف علیؔ غزل خواں ہیں
کل تلک تھے خموش بیچارے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.