مجھ سے نہ ہوئی نمائش غم
مجھ سے نہ ہوئی نمائش غم
تھی پھول کے رخ پہ جیسے شبنم
کون آیا ہے میری چشم تر میں
یہ کیسے لرز رہا ہے عالم
غنچے بھی چٹک کے بعض اوقات
کرتے ہیں مرا مزاج برہم
وہ بات جو دل جلا رہی ہے
اس بات میں کیف بھی ہے کم کم
دنیا کے لیے تبسم لب
اپنے لیے آتش جہنم
دکھ میرا سفینہ بن گیا ہے
ساحل مرا درد درد پیہم
آنکھیں ہیں مزار حسرتوں کے
آنسو ہیں چراغ وہ بھی مدھم
امروز پیام ہے اجل کا
فردا ہے دوام حسرت و رم
ہے شہر میں آج پھر چراغاں
گویا ہوئی میری چشم پرنم
دنیا نے سنے ہیں شعر میرے
اپنوں نے کیا ہے میرا ماتم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.