جو گیا تھا چھوڑ کے بے سبب اسے درد دل کا پتہ نہیں
جو گیا تھا چھوڑ کے بے سبب اسے درد دل کا پتہ نہیں
کہ چراغ یاد کا بام پر جو جلا تھا اب بھی بجھا نہیں
کہیں آنسوؤں کی ہیں بارشیں کہیں تشنگی کی نوازشیں
یہاں کیسا ساقی نظام ہے یہاں جام سب کو ملا نہیں
مجھے ایسا کس نے بنا دیا مری ہر سمجھ کو مٹا دیا
کوئی لفظ یاد نہیں رہے کوئی شعر اس پہ ہوا نہیں
چلو خامشی کے دیار میں کسی گلستاں کے کنار میں
وہی آنکھوں آنکھوں میں ذکر ہو جو کبھی کسی سے کہا نہیں
یہاں دل میں دل کا قیام ہے یہاں نفرتیں تو حرام ہیں
یہ محبتوں کا جہان ہے یہاں عشق کرنا خطا نہیں
مری آنکھوں کو ذرا دیکھ لے وہی نور ہے وہی آس ہے
ابھی عکس تیرا ہے ہو بہ ہو ابھی رنگ کوئی چڑھا نہیں
یہ عجب نصیب ہے بھاوناؔ ترا جھوٹا جھوٹا ہے آئنہ
مجھے دیکھ کر وہ ہنسا مگر مرا چہرہ اس نے پڑھا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.