Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سینے کو چاک کر کے جگر سے نکل گئی

قمر بدایونی

سینے کو چاک کر کے جگر سے نکل گئی

قمر بدایونی

MORE BYقمر بدایونی

    سینے کو چاک کر کے جگر سے نکل گئی

    ان کی نگاہ ناز چھری تھی کہ چل گئی

    کچھ میرا فائدہ ہے وہ کچھ مجھ سے مل گئے

    میں کیا کروں جو ان سے رقیبوں سے چل گئی

    سچ ہے شریک حال مصیبت میں کون ہو

    گھبرا کے آج آہ بھی دل سے نکل گئی

    فرقت میں اعتبار ہی کیا جان زار کا

    آج ان کے انتظار میں ٹھہری تو کل گئی

    ذکر وصال سن کے ہنسی آ گئی انہیں

    جس کا مجھے خیال تھا وہ بات ٹل گئی

    اب کیا پلٹ کے آئیں گے آسودگان خاک

    بچھڑے ہوؤں سے مل کے طبیعت بہل گئی

    وہ صحبتیں وہ عیش وہ دن اب کہاں قمرؔ

    ان کی نگاہ پھرتے ہی دنیا بدل گئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے