سینے کو چاک کر کے جگر سے نکل گئی
سینے کو چاک کر کے جگر سے نکل گئی
ان کی نگاہ ناز چھری تھی کہ چل گئی
کچھ میرا فائدہ ہے وہ کچھ مجھ سے مل گئے
میں کیا کروں جو ان سے رقیبوں سے چل گئی
سچ ہے شریک حال مصیبت میں کون ہو
گھبرا کے آج آہ بھی دل سے نکل گئی
فرقت میں اعتبار ہی کیا جان زار کا
آج ان کے انتظار میں ٹھہری تو کل گئی
ذکر وصال سن کے ہنسی آ گئی انہیں
جس کا مجھے خیال تھا وہ بات ٹل گئی
اب کیا پلٹ کے آئیں گے آسودگان خاک
بچھڑے ہوؤں سے مل کے طبیعت بہل گئی
وہ صحبتیں وہ عیش وہ دن اب کہاں قمرؔ
ان کی نگاہ پھرتے ہی دنیا بدل گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.