Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میں ہوں یہ گھٹتا پھیلتا سایہ میں یہ کیسے ہو سکتا ہوں

حمید نسیم

میں ہوں یہ گھٹتا پھیلتا سایہ میں یہ کیسے ہو سکتا ہوں

حمید نسیم

MORE BYحمید نسیم

    میں ہوں یہ گھٹتا پھیلتا سایہ میں یہ کیسے ہو سکتا ہوں

    وقت کے سیال آئینے میں کون ہے کس کو دیکھ رہا ہوں

    دل کے کسی پنہاں گوشے میں انجانی کوئی ہار چھپی ہے

    جان تپاک ہیں تیری باتیں میں بے بات بھٹک جاتا ہوں

    دیکھتے دیکھتے تیرا چہرہ اور اک چہرہ بن جاتا ہے

    اک مانوس ملول سا چہرہ کب دیکھا تھا بھول گیا ہوں

    اک لمحے نے مجھ سے کہا تھا تو ہی ازل ہے تو ہی ابد ہے

    لمحہ بیتا بات گئی اس خواب سے کب کا چونک اٹھا ہوں

    دیدۂ وا کے دمکتے خوابو میرے ساتھ چلو گے کب تک

    تم کہ وفور رنگ و نوا ہو میں کہ شکست دل کی صدا ہوں

    خاک اڑتی ہے لب بوسی کو تارے آنکھ کو چھو لیتے ہیں

    قرب کا خواہاں مجھ سے زمانہ میں تنہا ہوں میں تنہا ہوں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    حمید نسیم

    حمید نسیم

    مأخذ :
    • کتاب : Roshnai (Pg. 156)
    • Author : Ahmad Zainuddin
    • مطبع : Ahmad Brothers Printers Karachi (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے