Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وقت

MORE BYڈبلیو۔ ایچ۔ آڈین

    یہ ننھی سی گڑیا

    جسے دو برس ہو گئے ہیں میں جاپان سے لے کے آیا

    یہ رقاصہ رنگین کپڑوں میں ملبوس

    اسی ایک انداز میں دو برس سے کھڑی ہے

    نہ پلو ہی سرکا

    نہ ہاتھوں سے رومال رنگیں ہی چھوٹا

    نہ سر سے یہ تاج سرافرازی و کج کلاہی ہٹا

    اس کا ویسا ہی معصوم چہرہ

    وہی زیر لب مسکراہٹ

    وہی قوس ابرو

    وہی چشم بینا

    جواں جاوداں

    یہ گڑیا یہ رقاصہ یہ وقت کا نقطۂ مرکزی

    جس کے پیہم رواں ان گنت دائروں میں

    پریشان و آوارہ پھرتا رہا ہوں

    مرا چہرہ اک داستاں ہے

    مری عمر رفتہ کی

    آوارگی کی

    مگر فاصلہ ہے کہ ویسے کا ویسا رہا

    میرے کمرے میں یہ آج بھی میرے نزدیک اتنی ہے

    جتنی کوئی دو برس قبل تھی

    فرق اتنا ہے

    یہ وقت کا نقطۂ مرکزی

    اور میں وقت کے دائروں میں اسیر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے