غزل کی زبان اور اسالیب: سادگی، شیرینی اور تراکیب کا توازن
غزل کی کامیابی کا دارومدار اس کی زبان کی روانی، شیرینی اور ہندی و فارسی الفاظ کے متوازن استعمال پر ہے۔ میر، غالب اور اقبال کے اسالیب کا تقابلی جائزہ۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
غزل کی کامیابی کا دارومدار اس کی زبان کی روانی، شیرینی اور ہندی و فارسی الفاظ کے متوازن استعمال پر ہے۔ میر، غالب اور اقبال کے اسالیب کا تقابلی جائزہ۔
شمس الرحمن فاروقی کی نظر میں میر تقی میر نے فصاحت پر بلاغت کو ترجیح دی اور زبان کے استعمال میں وہ اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ بے باک اور مہم جو تھے۔