غزل کا فن اپنے قاری اور سامع سے جس چیز کا سب سے زیادہ تقاضا کرتا ہے، وہ ہے زبان کی روانی، شیرینی اور بے ساختگی۔ یہ بے ساختگی کوئی اتفاقی چیز نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک طویل اور کٹھن ریاضت کا ثمرہ ہوتی ہے۔ غزل کی زبان کا اس کے فن سے نہایت گہرا اور اٹوٹ رشتہ ہے۔ موضوع کی مناسبت سے الفاظ کا انتخاب غزل گو شاعر کی سب سے بڑی آزمائش ہوتی ہے۔
اردو غزل کے ارتقائی سفر میں زبان کے حوالے سے مختلف رویے سامنے آئے۔ ایک طرف ذوق جیسے شعراء تھے جنہوں نے محاوروں اور 'سوئے ہوئے استعاروں' پر تکیہ کیا، جسے غالب نے 'پنچایتی شاعری' قرار دے کر مسترد کر دیا۔ غالب نے اپنی فکر کی جولانی اور معنی آفرینی کے لیے فارسی تراکیب کا سہارا لیا۔ اسی طرح علامہ اقبال نے بھی غزل کو 'گنجینۂ معنی کا طلسم' بنانے کے لیے فارسی آمیز زبان استعمال کی اور غزل کے مروجہ آداب میں رہتے ہوئے فلسفیانہ مضامین باندھے۔
تاہم، غزل کی زبان کے حوالے سے یہ بحث ہمیشہ رہی ہے کہ آیا اس میں ہندی الفاظ کی کثرت ہونی چاہیے یا فارسی تراکیب کی۔ بعض ناقدین کا ماننا ہے کہ اچھی غزل وہ ہے جس میں 'نغمۂ ہندی' کی گونج زیادہ ہو۔ آرزو لکھنوی نے فارسی اضافتوں کو ترک کر کے خالص ہندی الفاظ میں غزلیں کہیں، جبکہ دوسری طرف بعض شعراء نے فارسی تراکیب کی بھرمار کر دی۔ تنقیدی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ دونوں رویے انتہا پسندی کی مثالیں ہیں۔
غزل کی زبان کا بہترین اور مثالی نمونہ میر تقی میر کے یہاں ملتا ہے، جہاں ہندی کی سادگی اور فارسی کی شان و شوکت ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو جاتی ہیں کہ قاری کو کسی قسم کی اجنبیت یا بوجھل پن کا احساس نہیں ہوتا۔ میر کا یہ شعر اس توازن کی عظیم الشان مثال ہے:
کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پر پیچ و تاب
شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا
اس شعر کے پہلے مصرعے کا نصف حصہ 'بجز یک شعلہ پر پیچ و تاب' خالص فارسی ترکیب پر مبنی ہے، لیکن دوسرے مصرعے کی انتہائی سادگی، روانی اور ہندی مزاج کی وجہ سے یہ فارسی ترکیب ذرا بھی نہیں کھٹکتی۔ غزل کی زبان میں وقت کے ساتھ ساتھ خاموش تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ غزل ہر دور کی حسیت اور مزاج کی عکاسی کر سکتی ہے۔ غزل کا اصل کمال یہی ہے کہ وہ زبان کے تمام تر تنوع کو اپنے اندر سمو کر ایک ایسا نغمہ تخلیق کرے جو سیدھا دل میں اتر جائے۔
