اردو تنقید کی تاریخ میں غزل کی ہیئت اور ساخت ہمیشہ سے ایک گرما گرم بحث کا موضوع رہی ہے۔ غزل فن ہے یا نہیں؟ اس سوال پر مختلف ادوار میں مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں۔ مولانا الطاف حسین حالی غزل کے مخالف نہیں تھے، بلکہ وہ اس کے موضوعات میں وسعت اور اصلاح کے خواہاں تھے۔ تاہم، وحید الدین سلیم، عظمت اللہ خاں، جوش ملیح آبادی اور کلیم الدین احمد جیسے نقادوں نے غزل کی ساخت پر بنیادی اور سخت اعتراضات کیے۔
ان ناقدین کا سب سے بڑا اعتراض غزل کی 'ریزہ خیالی' اور 'ریزہ کاری' پر تھا۔ مغربی نظریہ فن کے زیرِ اثر ان کا ماننا تھا کہ کسی بھی فن پارے میں مضمون کا تسلسل، اور ابتدا، وسط اور انجام کا ہونا لازمی ہے۔ چونکہ غزل متفرق اور منفرد اشعار کا ایک گلدستہ ہے جس میں ظاہری ربط و تسلسل کی شرط نہیں ہوتی، اس لیے کلیم الدین احمد نے اسے 'نیم وحشیانہ شاعری' قرار دیا، جبکہ عظمت اللہ خاں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اردو شاعری کی ترقی کے لیے غزل کی گردن بے تکلف مار دینی چاہیے۔
ان سخت تنقیدوں کے جواب میں غزل کے حامیوں نے مشرقی نظریہ فن کا سہارا لیا۔ حامد حسن قادری نے نہایت دیانت داری سے یہ تسلیم کیا کہ غزل میں وحدتِ خیال کا ہونا قطعی ضروری نہیں، البتہ اس میں 'وحدتِ تاثر' ہو سکتی ہے۔ غزل کو جاپانی صنف 'ہائیکو' کے قریب بھی قرار دیا گیا، جہاں مختلف تصویریں مل کر ایک مجموعی تاثر پیدا کرتی ہیں۔ غزل مغربی معیار کے مطابق فن پارہ ہو یا نہ ہو، مشرقی روایات میں یہ فن کا ایک اعلیٰ روپ ہے۔
غزل کی ہیئت میں بحر، قافیہ اور ردیف کا کردار محض آرائشی نہیں بلکہ نفسیاتی اور ساختیاتی ہے۔ بحر ایک بساط بچھاتی ہے، قافیہ تکرار اور توقع کے اصول پر ذہن کو روشنی بخشتا ہے، اور ردیف اسے چستی عطا کرتی ہے۔ غزل میں 'مطلع' (پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں) کی شرط اس لیے رکھی گئی تاکہ قاری یا سامع کے ذہن کی تربیت غزل کے مخصوص صوتی نظام اور موسیقی پر ہو سکے۔ میر تقی میر کا یہ مطلع اس کی بہترین مثال ہے:
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوانے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
اس مطلع کے بعد غزل کی ایک خاص فضا اور موسیقی ذہن میں بس جاتی ہے۔ غزل کی یہ ہیئت، جس میں ہر شعر اپنی جگہ ایک مکمل اکائی ہوتا ہے، دراصل روشنی کی اس رفتار کی مانند ہے جو ہموار ہونے کے بجائے جست (چھلانگ) کی صورت میں سفر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غزل کی ہیئت میں کی جانے والی تبدیلیاں، جیسے 'آزاد غزل' کے تجربات، کبھی کامیاب نہیں ہو سکے، کیونکہ غزل اپنی مخصوص ہیئت ہی کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔
