اردو شاعری کی تاریخ میں غزل کو ہمیشہ ایک مرکزی اور دلکش مقام حاصل رہا ہے۔ غزل کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ یہ محض عاشقانہ واردات یا ہجر و وصال کے قصوں تک محدود ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہری ہے۔ غزل دراصل ذات اور کائنات کے حسین امتزاج کا نام ہے۔ جب ایک غزل گو شاعر اپنی ذات کے کرب یا مسرت کا بیان کرتا ہے، تو وہ درپردہ پوری کائنات کے حقائق کو اپنی ذات کے حوالے سے پیش کر رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے غزل میں ہماری اور آپ کی، سب کی بات شامل ہو جاتی ہے۔
آل احمد سرور نے اپنے دو اشعار میں غزل کی اسی وسعت اور ایمائیت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
غزل میں ذات بھی ہے اور کائنات بھی ہے
ہماری بات بھی ہے اور تمہاری بات بھی ہے
سرور اس کے اشارے داستانوں پر بھی بھاری ہیں
غزل میں جوہرِ اربابِ فن کی آزمائش ہے
یہ اشعار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ غزل کا اصل حسن اس کا 'اشاروں کا آرٹ' ہونا ہے۔ غزل کا ایک شعر اپنے اندر پوری ایک داستان، ایک عہد اور ایک مکمل فلسفہ سمونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ غزل کی اسی بے پناہ مقبولیت اور سحر انگیزی کی وجہ سے بعض اوقات یہ غلط فہمی پیدا ہو جاتی ہے کہ غزل ہی ساری شاعری ہے اور اسے شاعری کی کل آبرو سمجھ لیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ رویہ غزل کی حد سے بڑھی ہوئی محبت کا نتیجہ ہے، لیکن تنقیدی شعور کا تقاضا ہے کہ غزل کو شاعری کی ایک اہم اور قابلِ قدر صنف کے طور پر تسلیم کیا جائے، نہ کہ کل شاعری۔
ہر دور میں غزل نے زندگی کے حقائق، سماجی رویوں اور انسانی نفسیات کی عکاسی اپنے ایک مخصوص انداز اور اسلوب میں کی ہے۔ اسی مخصوص اسلوب، نرمی، گداز اور ایمائیت کو 'تغزل' کا نام دیا گیا ہے۔ تغزل وہ جادو ہے جو قاری یا سامع کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ آج کے اس تیز رفتار دور میں، جہاں انسان کے پاس طویل داستانیں یا منظم فلسفے پڑھنے کا وقت نہیں، غزل کی فوری کیفیات اور شعور کی رو کا بیان اسے مزید مقبول بناتا ہے۔ غزل کا یہ دریچہ آج بھی حیات و کائنات کے ان گنت جلوے دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
