دہلی سے دکن تک: اردو اور ہندی کے ارتقا کا مشترکہ سفر
غوریوں کے دور میں دہلی کی مرکزیت اور پھر محمد تغلق کے عہد میں دکن منتقلی سے اردو اور ہندی کی مشترکہ زبان کے ارتقائی مراحل کا جائزہ۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
میں انتخاب ایک شہر بھی باندھا ہے اور بھی طرح طرح سے اس کے قصیدے پڑھے گئے ہیں لیکن تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس شہر کی ساری رونقیں ختم کر دی گئیں ، اس کے گلی کوچے ویران ہو گئے اور اس کی ادبی وتہذیبی مرکزیت ختم ہوگئی، بے حالی کے عالم میں لوگ یہاں سے ہجرت کر گئے اور پورے شہر پر ایک مردمی چھا گئی۔ اس صورتحال نے سب سے زیادہ گہرا اور دیر پا اثر تخلیق کاروں پر چھوڑا ۔ شاعروں نے دلی کو موضوع بنا کر جو شعر کہے وہ بیشتر دلی کی اس صورتحال کا نوحہ ہیں ۔
غوریوں کے دور میں دہلی کی مرکزیت اور پھر محمد تغلق کے عہد میں دکن منتقلی سے اردو اور ہندی کی مشترکہ زبان کے ارتقائی مراحل کا جائزہ۔