زبانوں کا ارتقا ہمیشہ سیاسی اور جغرافیائی تبدیلیوں کا مرہونِ منت رہا ہے۔ اردو اور ہندی کی مشترکہ ابتدائی تاریخ کا دوسرا اہم دور اس وقت شروع ہوتا ہے جب غزنویوں کے بعد غوریوں نے ہندوستان پر قدم جمائے اور اپنی راجدھانی لاہور کے بجائے دہلی کو بنایا۔ اس سیاسی مرکزیت کی منتقلی نے لسانی تاریخ پر گہرے نقوش مرتب کیے۔
محمود شیرانی کی تحقیق کے مطابق، غوریوں کے حملوں کے بعد پنجاب سے عوام کی ایک کثیر تعداد دہلی کی جانب ہجرت کر گئی، اور اپنے ہمراہ اس نئی زبان 'ہندوی' کو بھی لے گئی جو غزنوی دور میں پروان چڑھ چکی تھی۔ دہلی اور اس کے گرد و نواح میں اس وقت شورسینی کی قدیم بولیاں، کھڑی، ہریانی اور برج، رائج تھیں۔ چونکہ پنجابی زبان کھڑی اور ہریانی سے کافی مماثلت رکھتی تھی، اس لیے پنجاب سے آنے والوں نے ان بولیوں کو جلد اپنا لیا۔ اس وقت یہ نئی زبان ایک پگھلی ہوئی دھات کی مانند تھی جسے کسی بھی سانچے میں ڈھالا جا سکتا تھا۔ دہلی آکر اس نے کھڑی، برج اور ہریانی کے عناصر کو اپنے اندر سمو کر اپنی وسعتوں میں بے پناہ اضافہ کیا۔
اس مشترکہ زبان کی نشوونما کی تیسری اور انتہائی اہم کڑی اس کا دکن پہنچنا تھا۔ تیرہویں اور چودہویں صدی میں، بالخصوص محمد تغلق کے عہد میں جب دارالحکومت دہلی سے دولت آباد (دکن) منتقل کیا گیا، تو دہلی کے عوام کی ایک بڑی تعداد اپنے ساتھ اس نئی زبان کو بھی دکن لے گئی۔ وہاں بہمنی، قطب شاہی اور عادل شاہی سلطنتوں کی سرپرستی میں اس زبان نے خوب ترقی کی اور 'دکنی' یا 'گجری' کے نام سے جانی گئی۔
دکن میں یہ زبان باقاعدہ شعر و ادب کا روپ دھار گئی۔ محمد قلی قطب شاہ، وجہی، نصرتی اور غواصی جیسے شاعروں نے اسے بامِ عروج پر پہنچایا۔ اس دور کی زبان پراکرتوں سے بہت قریب تھی اور اس میں ایک عجیب سی معصومیت اور گھلاوٹ تھی۔ محمد قلی قطب شاہ کا یہ کلام اس کی بہترین مثال ہے:
پیا باج پیالہ پیا جائے نا
پیا باج یک تل جیا جائے نا
کہے تے پیا بن صبوری کروں
کہیا جائے اما کیا جائے نا
اسی طرح نثر میں ملا وجہی کی 'سب رس' ہندی اور اردو کے ملے جلے اسلوب کا شاہکار ہے۔ وجہی لکھتے ہیں: 'دانا کوں یاں کیا چارا۔ نادان کی سمج میں اندھارا۔ سمجیا سوپایانئیں سمجیا سو گنوایا۔' یہ دکنی ادب آج بھی اردو اور ہندی دونوں کے لیے باعثِ فخر ہے اور ان کی مشترکہ میراث کا امین ہے۔
