مہمان پر اشعار
مہمان کے حوالے سے ہندوستانی
تہذیبی روایات میں بہت خوشگوار تصورات پائے جاتے ہیں ۔ مہمان کا آنا گھر میں برکت کا اور خوشحالی کا شگون سمجھا جاتا ہے ۔ یہ شاعری مہمان کی اس جہت کے ساتھ اور بہت سی جہتوں کو موضوع بناتی ہے ۔ مہمان کے قیام کی عارضی نوعیت کو بھی شاعروں نے بہت مختلف دھنگ سے برتا ہے ۔ آپ ہمارے اس انتخاب میں دیکھیں گے کہ مہمان کا لفظ کس طرح زندگی کی کثیر صورتوں کیلئے ایک بڑے استعارے کی شکل میں دھل گیا ہے ۔
برق کیا شرارہ کیا رنگ کیا نظارہ کیا
ہر دئے کی مٹی میں روشنی تمہاری ہے
دنیا میں ہم رہے تو کئی دن پہ اس طرح
دشمن کے گھر میں جیسے کوئی میہماں رہے
-
موضوعات : دشمناور 1 مزید
تنہائی کا اک اور مزہ لوٹ رہا ہوں
مہمان مرے گھر میں بہت آئے ہوئے ہیں
نہ جب تک ہم پیالہ ہو کوئی میں مے نہیں پیتا
نہیں مہماں تو فاقہ ہے خلیل اللہ کے گھر میں
یقین برسوں کا امکان کچھ دنوں کا ہوں
میں تیرے شہر میں مہمان کچھ دنوں کا ہوں
سمیٹ لے گئے سب رحمتیں کہاں مہمان
مکان کاٹتا پھرتا ہے میزبانوں کو
کمرے میں دھواں درد کی پہچان بنا تھا
کل رات کوئی پھر مرا مہمان بنا تھا