غالب کی انفرادیت پسندی: میر اور ہم عصروں سے گریز کے اسباب
غالب نے جان بوجھ کر اپنے ہم عصروں اور میر تقی میر کی روایات سے ہٹ کر ایک پیچیدہ اسلوب اپنایا، جس کی بنیادی وجہ ان کی انفرادیت پسندی اور جاگیردارانہ انا تھی۔
Added to your favorites
غالب نے جان بوجھ کر اپنے ہم عصروں اور میر تقی میر کی روایات سے ہٹ کر ایک پیچیدہ اسلوب اپنایا، جس کی بنیادی وجہ ان کی انفرادیت پسندی اور جاگیردارانہ انا تھی۔
شمس الرحمن فاروقی کی نظر میں میر اور غالب دونوں اردو غزل کے روایتی عاشق سے انحراف کرتے ہیں، لیکن میر کا عاشق ایک جیتا جاگتا انسان ہے جبکہ غالب کا عاشق ایک تجریدی اور مثالی پیکر ہے۔
اس مضمون میں فراق کی شاعری پر انگریزی رومانیت اور سنسکرت کاویہ کے اثرات اور ان کے یہاں حسن و عشق کے آفاقی تصور کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اردو اور ہندی کے درمیان پائی جانے والی حیرت انگیز صوتی، نحوی اور صرفی مماثلتوں کا ایک لسانیاتی تجزیہ۔
یہ مضمون فورٹ ولیم کالج کی خدمات اور بالخصوص میر امن کی 'باغ و بہار' کے اس لسانی توازن پر بحث کرتا ہے جس نے اردو نثر کو سادگی اور روانی عطا کی۔
اردو غزل پر فارسی کا گہرا اثر ہونے کے باوجود، یہ ہندوستانی تہذیب، موسموں، رسم و رواج اور سماجی و سیاسی کروٹوں کی ایک سچی اور رنگارنگ تصویر پیش کرتی ہے۔
آپ کو باقاعدگی سے کچھ حاصل کرنا ہے لیکن اس کے علاوہ آپ کسی بھی ای میل کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔