اردو شاعری میں خمریات کی روایت اتنی مستحکم ہو گئی تھی کہ ایک وقت ایسا آیا جب اچھے اچھے پرہیزگار شعراء بھی اپنی غزلوں میں شراب، ساقی اور مے خانے کے مضامین باندھنے پر مجبور ہو گئے۔ ان کے نزدیک ان مضامین کے بغیر غزل کی تکمیل ہی نہیں ہوتی تھی۔ اس دور میں ہمیں دو متضاد لیکن انتہائی دلچسپ رویے دیکھنے کو ملتے ہیں: ایک طرف وہ شعراء ہیں جو 'بے پئے ہی جھومتے' تھے، اور دوسری طرف وہ رندِ خراباتی ہیں جن کی شاعری اور مے نوشی کی زندگی میں کوئی فرق نہیں تھا۔
پہلے گروہ کے سب سے نمایاں نمائندے ریاض خیر آبادی ہیں۔ ریاض کی طبیعت میں ایک غیر معمولی شوخی اور چلبلا پن تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہوں نے ساری عمر شراب کو ہاتھ تک نہیں لگایا، لیکن ان کے دیوان میں خمریات کے تیرہ سو چھیاسٹھ اشعار موجود ہیں۔ ریاض نے شراب کے لیے نہایت پیارے نام وضع کیے اور مے خانے کے تمام لوازمات کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ دراصل ان کے یہاں شراب سے مراد وہ کیفیت ہے جو عشق میں حاصل ہوتی ہے یا جو جوانی کے راستے سے آتی ہے۔ وہ جوانی کے شباب کو ہی شراب کی گلابی سے تعبیر کرتے ہیں:
چھلکائیں لاؤ بھر کے گلابی شراب کی
تصویر کھینچیں آج تمہارے شباب کی
جہاں ہم خشت خم رکھ دیں بنائے کعبہ پڑتی ہے
جہاں ساغر پٹک دیں چشمۂ زمزم نکلتا ہے
اس کے بالکل برعکس، بیسویں صدی میں جگر مراد آبادی کی صورت میں ایک ایسا شاعر ابھرا جس کی خمریات خالصتاً اس کی اپنی رندانہ زندگی کا عکس تھی۔ جگر ایک رندِ مشرب شاعر تھے۔ ان کی شراب کا بادۂ تصوف سے کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ وہ حقیقتاً مستِ جامِ شراب تھے۔ نقادوں کے بقول، جگر کی دلچسپی جتنی صہبا (شراب) سے تھی، اتنی ساقی سے بھی نہیں تھی۔ وہ جس جوش و خروش سے اپنی مستی کا ذکر کرتے ہیں، وہ ان کے ذاتی تجربات کی سچی عکاسی ہے۔ وہ خود کو غرقِ جامِ شراب دیکھنا چاہتے تھے:
مست جام شراب خاک ہوتے
غرق جام شراب ہونا تھا
شیشہ مست و بادہ مست و عشق مست و حسن مست
آج پینے کا مزہ پی کر بہک جانے میں ہے
جگر کے یہاں مے خانے کی مٹی سے وفاداری اور واعظ کی باتوں میں نہ آنے کا عزم ایک سچے رند کی پہچان ہے۔ ان کی شاعری میں شراب آنکھوں سے ڈھلتی اور نظروں سے ابلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ وہ زاہد کو اپنی شوخیِ رندانہ دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کس طرح رحمتِ خداوندی پر بھروسہ کر کے مے نوشی کرتے ہیں:
ہم کہیں آتے ہیں واعظ ترے بہکانے میں
اسی میخانے کی مٹی اسی مے خانے میں
زاہد یہ میری شوخی رندانہ دیکھنا
رحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیا
ریاض خیر آبادی کی تخیلاتی مستی ہو یا جگر مراد آبادی کی حقیقی سرشاری، دونوں نے اردو خمریات کو ایسے لازوال اشعار دیے ہیں جو آج بھی پڑھنے والوں کو ایک خاص کیفیتِ کیف و سرور سے آشنا کر دیتے ہیں۔
