Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shakeb Jalali's Photo'

شکیب جلالی

1934 - 1966 | کراچی, پاکستان

معروف پاکستانی شاعر، کم عمری میں خود کشی کی

معروف پاکستانی شاعر، کم عمری میں خود کشی کی

شکیب جلالی

غزل 59

نظم 14

اشعار 44

تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں

آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ

بد قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا

ہم جس پہ مر مٹے وہ ہمارا نہ ہو سکا

کوئی بھولا ہوا چہرہ نظر آئے شاید

آئینہ غور سے تو نے کبھی دیکھا ہی نہیں

آج بھی شاید کوئی پھولوں کا تحفہ بھیج دے

تتلیاں منڈلا رہی ہیں کانچ کے گلدان پر

سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح

دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں

کتاب 7

 

ویڈیو 8

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

نامعلوم

درد کے موسم کا کیا ہوگا اثر انجان پر

نامعلوم

گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا

نامعلوم

مجھ سے ملنے شب_غم اور تو کون آئے_گا

نامعلوم

مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ

نامعلوم

میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں

نامعلوم

وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت

نامعلوم

آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے

نامعلوم

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

پنکج اداس

مجرم

یہی رستہ مری منزل کی طرف جاتا ہے نامعلوم

مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ

نامعلوم

کنار_آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی

نامعلوم

آڈیو 15

آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے

بد_قسمتی کو یہ بھی گوارا نہ ہو سکا

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

Recitation

متعلقہ بلاگ

 

"کراچی" کے مزید شعرا

Recitation

بولیے