Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shafiq Jaunpuri's Photo'

شفیق جونپوری

1902 - 1963 | جون پور, انڈیا

ترقی پسند فکر، عصری شعور اور کلاسیکی شعری روایت کو نئے معنوی پیرایے میں پیش کرنے والے معروف شاعر، نظم اور غزل دونوں میں نمایاں شہرت کے حامل

ترقی پسند فکر، عصری شعور اور کلاسیکی شعری روایت کو نئے معنوی پیرایے میں پیش کرنے والے معروف شاعر، نظم اور غزل دونوں میں نمایاں شہرت کے حامل

شفیق جونپوری کے اشعار

عشق کی ابتدا تو جانتے ہیں

عشق کی انتہا نہیں معلوم

تجھے ہم دوپہر کی دھوپ میں دیکھیں گے اے غنچے

ابھی شبنم کے رونے پر ہنسی معلوم ہوتی ہے

جلا وہ شمع کہ آندھی جسے بجھا نہ سکے

وہ نقش بن کہ زمانہ جسے مٹا نہ سکے

فریب روشنی میں آنے والو میں نہ کہتا تھا

کہ بجلی آشیانے کی نگہباں ہو نہیں سکتی

آ گیا تھا ایک دن لب پر جفاؤں کا گلا

آج تک جب ان سے ملتے ہیں تو شرماتے ہیں ہم

Recitation

بولیے