سلیم صدیقی
اشعار 5
دشمن سے ایسے کون بھلا جیت پائے گا
جو دوستی کے بھیس میں چھپ کر دغا کرے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
نہ تو رنج و غم سے ہی ربط ہے نہ ہی آشنائے خوشی ہوں میں
مری زندگی بھی عجیب ہے اسے منزلوں کا پتا نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ملک کی گلیاں لہو پینے کی عادی ہو نہ جائیں
یہ تعصب زہر کا ذہنوں میں بھرنا چھوڑ دے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ایک دن تو دل کو بھی ترجیح دے کر دیکھ لوں
عقل سے کہہ دو کہ مجھ کو آج تنہا چھوڑ دے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
گلیوں گلیوں شہروں شہروں کس نے آگ لگائی ہے
بغض و نفرت کا دنیا کو کس نے یہ ماحول دیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے