سلگتی یاد
یہ تری یاد بھی سگریٹ کے دھوئیں جیسی ہے
جو سلگتی ہے تو سانسوں میں اتر جاتی ہے
میرے سینے میں کسی سمت بکھر جاتی ہے
اور آنکھوں میں تپش بن کے ٹھہر جاتی ہے
کھو گئی ہے یہ مرے جسم کے اک کمرے میں
نہ کوئی کھڑکی کھلی ہے نہ اجالا کوئی
صرف دیوار پہ چپ چاپ دھواں بیٹھا ہے
میں نے چاہا تھا تری یاد بجھا دوں لیکن
جتنی بجھتی ہے یہ اتنی ہی بھڑک جاتی ہے
یہ تری یاد بھی سگریٹ کے دھوئیں جیسی ہے
جو سلگتی ہے تو سانسوں میں اتر جاتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.