صفحہ نمبر ایک سو گیارہ
میز کے کونے پر
وہ چائے کی پیالی کا داغ
اب لکڑی کے ریشوں میں اتر چکا ہے
ہمیشہ کے لیے
آوازیں
گھر چھوڑ کر نہیں جاتیں
بس کواڑ کی درزوں میں چھپ جاتی ہیں
یا پردوں کی سلوٹوں میں
جیسے تم
گئے نہیں ہو
صرف اس بھاری جلد والی کتاب کے
صفحہ نمبر ایک سو گیارہ کے درمیان
محبوس ہو گئے ہو
ایک زرد خستہ پتی کی شکل میں
جس کی رگوں کا خون خشک ہو کر
بھورا پڑ چکا ہے
میں اس کتاب کو چھوتا نہیں
ڈر لگتا ہے
کہ ورق پلٹنے کی ذرا سی جنبش سے
وہ سوکھا ہوا پھول
راکھ بن کر
میرے ہاتھ کی لکیروں میں بکھر نہ جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.