Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

صفحہ نمبر ایک سو گیارہ

المیر بیخود

صفحہ نمبر ایک سو گیارہ

المیر بیخود

MORE BYالمیر بیخود

    میز کے کونے پر

    وہ چائے کی پیالی کا داغ

    اب لکڑی کے ریشوں میں اتر چکا ہے

    ہمیشہ کے لیے

    آوازیں

    گھر چھوڑ کر نہیں جاتیں

    بس کواڑ کی درزوں میں چھپ جاتی ہیں

    یا پردوں کی سلوٹوں میں

    جیسے تم

    گئے نہیں ہو

    صرف اس بھاری جلد والی کتاب کے

    صفحہ نمبر ایک سو گیارہ کے درمیان

    محبوس ہو گئے ہو

    ایک زرد خستہ پتی کی شکل میں

    جس کی رگوں کا خون خشک ہو کر

    بھورا پڑ چکا ہے

    میں اس کتاب کو چھوتا نہیں

    ڈر لگتا ہے

    کہ ورق پلٹنے کی ذرا سی جنبش سے

    وہ سوکھا ہوا پھول

    راکھ بن کر

    میرے ہاتھ کی لکیروں میں بکھر نہ جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے