احتراز
آج کی رات کے دامن میں ہیں کیا کیا جادو
خواب آلود فضاؤں میں یہ سوئے ہوئے گیت
آپ کے قرب کے احساس کی یہ نرم سی آنچ
کسی انجان سی خواہش سے سلگتا ہوا چاند
کچھ جھجکتی ہوئی شرمائی ہوئی سرد ہوا
یہ مری سوچ کا الجھا ہوا ریشم ڈورا
نشے میں جھومتی شب کی طلب انگیز مہک
دھڑکنوں کو مری بیدار کئے دیتی ہے
دھڑکنیں جن کا نہ حاصل ہے نہ مفہوم کوئی
اجنبی آپ مجھے آنکھ جھپک لینے دیں
رات کی سانس میں جذبات گھلے جاتے ہیں
میری چوری کو مگر گھور رہی ہیں ہر سمت
دور تک روشنیاں رات کی باہوں میں اسیر
شہر کی سخت و سیہ سوچتی گونگی سڑکیں
ایسے جامد ہیں کہ جیسے مری قسمت کی لکیر
میں نے مانا کہ مجھے آپ کچھ اپنے سے لگے
آپ کے گیتوں میں اپنی مجھے آواز آئی
آپ کے حسن تخیل میں کھلے ہیں وہ پھول
جن کی خوشبو سے معطر ہے مری تنہائی
پھر بھی سوچیں تو مجھے آپ سے نسبت کیا ہے
کچے دھاگے کا یہ بے نام سا اک رشتہ ہے
یہ فسوں کار و حسیں رات فقط دھوکا ہے
صبح اک ایسی حقیقت ہے نہیں جس سے گریز
کون اس رات کے دامن کو جکڑ سکتا ہے
لاکھ چاہیں بھی پہ یہ رات گزر جائے گی
اور پھر میری تمنا کی یہ نورستہ کلی
اس حقیقت کی کڑی دھوپ نہ سہ پائے گی
جھلملاتے ہیں جو احساس میں ننھے جگنو
وقت کی آنکھ میں رہ جائیں گے بن کر آنسو
رات کی رات ہیں یہ رات کے سارے جادو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.