Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گنبد کی آواز

ظہور نظر

گنبد کی آواز

ظہور نظر

MORE BYظہور نظر

    وقت کی محراب سے لپٹی ہوئی

    ماورا کی بیل کو پانی نہ دو

    یہ ہری کب تھی جو اب ہوگی ہری

    ہیں ازل سے خشک اس کے شاخسار

    پھیلتے رہتے ہیں صبح و شام جن کے تار و پود

    مثل تار جبر نا پیدا کنار!

    نقطہ در نقطہ ہے اس کا مرکز لا منتہی

    دائرہ در دائرہ محراب در محراب ہے اس کا سواد

    جس کے لا محدود و نا معلوم کی تخلیق ہیں

    وسوسے حیرانیاں دہشت گہہ آدم نژاد

    جس کی اک اک شاخ اک اک برگ کے خاشاک پر

    جم رہا ہے جانے والی آنے والی ان گنت صدیوں کا دور

    جس کے پیچ و خم میں پیچ و تاب کھاتے ہیں مضافات عدم

    جس کے الجھاؤ میں الجھے ہیں مقامات وجود

    سب دھواں ہے

    سرحد امکاں سے لے کر لا مکاں تک سب دھواں

    صرف یہ لمحہ کہ جو موجود ہے

    اور اس لمحے کی زندانی غم جاں کی حقیقت کے سوا

    کوئی شے اس دہر کی دائم نہیں

    راستوں کی زد پہ ہیں سب راستے

    بے اماں گردش میں ہے گیتی کا چاک

    ہر جہت ہر راہ ہست و بود میں

    اڑ رہی ہے وقت کے قدموں کی خاک

    جانے والی ساعتیں کب آئیں گی

    آنے والی ساعتیں کیا لائیں گی

    بھول جاؤ بھول جاؤ بھول جاؤ

    اور یہ لمحہ کہ جو موجود ہے

    ہے یہی سب کچھ اسی کے ناز اٹھاؤ

    ہے یہی سب کچھ اسی پر جاں گنواؤ

    جاں گنواؤ جاں گنواؤ جاں گنواؤ

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے