گنبد کی آواز
وقت کی محراب سے لپٹی ہوئی
ماورا کی بیل کو پانی نہ دو
یہ ہری کب تھی جو اب ہوگی ہری
ہیں ازل سے خشک اس کے شاخسار
پھیلتے رہتے ہیں صبح و شام جن کے تار و پود
مثل تار جبر نا پیدا کنار!
نقطہ در نقطہ ہے اس کا مرکز لا منتہی
دائرہ در دائرہ محراب در محراب ہے اس کا سواد
جس کے لا محدود و نا معلوم کی تخلیق ہیں
وسوسے حیرانیاں دہشت گہہ آدم نژاد
جس کی اک اک شاخ اک اک برگ کے خاشاک پر
جم رہا ہے جانے والی آنے والی ان گنت صدیوں کا دور
جس کے پیچ و خم میں پیچ و تاب کھاتے ہیں مضافات عدم
جس کے الجھاؤ میں الجھے ہیں مقامات وجود
سب دھواں ہے
سرحد امکاں سے لے کر لا مکاں تک سب دھواں
صرف یہ لمحہ کہ جو موجود ہے
اور اس لمحے کی زندانی غم جاں کی حقیقت کے سوا
کوئی شے اس دہر کی دائم نہیں
راستوں کی زد پہ ہیں سب راستے
بے اماں گردش میں ہے گیتی کا چاک
ہر جہت ہر راہ ہست و بود میں
اڑ رہی ہے وقت کے قدموں کی خاک
جانے والی ساعتیں کب آئیں گی
آنے والی ساعتیں کیا لائیں گی
بھول جاؤ بھول جاؤ بھول جاؤ
اور یہ لمحہ کہ جو موجود ہے
ہے یہی سب کچھ اسی کے ناز اٹھاؤ
ہے یہی سب کچھ اسی پر جاں گنواؤ
جاں گنواؤ جاں گنواؤ جاں گنواؤ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.