چمکتا لمحہ
تو لمحے کی زد سے کہاں بچ سکے گا
یہ چمکیلا لمحہ کہ تیرے عقب میں ازل سے رواں ہے
تجھے روند کر یوں بڑھے گا کہ جیسے
پر کاہ سے مختلف تو نہیں ہے
لچکتے ہوئے سرد زینے پہ پاؤں رکھے
تو کسی ایسی منزل کی دھن میں رواں ہے
جہاں اس لپکتے ہوئے تند لمحے کی زد سے اماں ہے
مگر ایسی منزل کہاں ہے
یہ لمحہ کہ خود ان گنت ساعتوں سے مرتب ہوا ہے
یہ لمحہ کہ صورت بدل کر شب و روز میں ڈھل گیا ہے
شب و روز اک دوسرے کے تعاقب میں بڑھتے
مہ و سال کی ایک لمبی سی مالا بنے ہیں
وہ مالا تری نرم گردن میں اک طوق سا بن کے اب جھولتی ہے
یہ لمحہ یہ سیمابی چمکیلا منکا
لپک کر تری لمبی مالا کے حلقے میں آتا ہے جس دم
تو مالا کا بڑھتا ہوا بوجھ گردن کو تیری
زمیں بوس ہونے پہ مجبور کرتا ہے اور تو
بڑی بے بسی سے
تعاقب میں آتی ہوئی موت کو دیکھتا ہے
لچکتا ہوا سرد زینہ معاً بولتا ہے
ترا ہات لکڑی کی باہوں سے یک دم پھسل کر
ترے لڑکھڑاتے ہوئے جسم کو تولتا ہے
مگر کون جانے تجھے کیا ہوا ہے
تو اک بھیگی گٹھڑی بنا سرد زینے کے قدموں میں دم توڑتا ہے
لپکتا ہوا تند لمحہ تجھے روند کر ایسے بڑھتا ہے جیسے
پر کاہ سے مختلف تو نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.