Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گزرے زمانے کی یاد

نادر کاکوری

گزرے زمانے کی یاد

نادر کاکوری

MORE BYنادر کاکوری

    دلچسپ معلومات

    یہ نظم تھامس مور (Thomas Moore) کی معروف نظم “Oft, in the Stilly Night” کی اردو باز آفرینی ہے، جسے نادر کاکوروی نے „گزرے زمانے کی یاد“ کے عنوان سے پیش کیاہے۔ اگرچہ انہوں نے اسے ترجمہ قرار دیا ہے، لیکن یہ اصل نظم کی تخلیقی اردو صورت ہے۔ یہ نظم ریشما کی آواز میں’’اکثر شبِ تنہائی میں“ کے نام سے بھی بے حد مقبول ہوئی۔

    اکثر شب تنہائی میں

    کچھ دیر پہلے نیند سے

    گزری ہوئی دلچسپیاں

    بیتے ہوئے دن عیش کے

    بنتے ہیں شمع زندگی

    اور ڈالتے ہیں روشنی

    میرے دل صد چاک پر

    وہ بچپن اور وہ سادگی

    وہ رونا وہ ہنسنا کبھی

    پھر وہ جوانی کے مزے

    وہ دل لگی وہ قہقہے

    وہ عشق وہ عہد وفا

    وہ وعدہ اور وہ شکریہ

    وہ لذت بزم طرب

    یاد آتے ہیں ایک ایک سب

    دل کا کنول جو روز و شب

    رہتا شگفتہ تھا سو اب

    اس کا یہ ابتر حال ہے

    اک سبزۂ‌ پامال ہے

    اک پھول کمہلایا ہوا

    ٹوٹا ہوا بکھرا ہوا

    روندا پڑا ہے خاک پر

    یوں ہی شب تنہائی میں

    کچھ دیر پہلے نیند سے

    گزری ہوئی ناکامیاں

    بیتے ہوئے دن رنج کے

    بنتے ہیں شمع بے کسی

    اور ڈالتے ہیں روشنی

    ان حسرتوں کی قبر پر

    جو آرزوئیں پہلے تھیں

    پھر غم سے حسرت بن گئیں

    غم دوستوں کی فوت کا

    ان کی جوانا موت کا

    ہاں دیکھ شیشہ میں مرے

    ان حسرتوں کا خون ہے

    جو گردش ایام سے

    جو قسمت ناکام سے

    یا عیش غم انجام سے

    مرگ بت گلفام سے

    خود میرے غم میں مر گئیں

    کس طرح پاؤں میں حزیں

    قابو دل بے صبر پر

    جب آہ ان احباب کو

    میں یاد کر اٹھتا ہوں جو

    یوں مجھ سے پہلے اٹھ گئے

    جس طرح طائر باغ کے

    یا جیسے پھول اور پتیاں

    گر جائیں سب قبل از خزاں

    اور خشک رہ جائے شجر

    اس وقت تنہائی مری

    بن کر مجسم بے کسی

    کر دیتی ہے پیش نظر

    ہو حق سا اک ویران گھر

    ویران جس کو چھوڑ کر

    سب رہنے والے چل بسے

    ٹوٹے کواڑ اور کھڑکیاں

    چھت کے ٹپکنے کے نشاں

    پرنالے ہیں روزن نہیں

    یہ ہال ہے آنگن نہیں

    پردے نہیں چلمن نہیں

    اک شمع تک روشن نہیں

    میرے سوا جس میں کوئی

    جھانکے نہ بھولے سے کبھی

    وہ خانۂ خالی ہے دل

    پوچھے نہ جس کو دیو بھی

    اجڑا ہوا ویران گھر

    یوں ہی شب تنہائی میں

    کچھ دیر پہلے نیند سے

    گزری ہوئیں دلچسپیاں

    بیتے ہوئے دن عیش کے

    بنتے ہیں شمع زندگی

    اور ڈالتے ہیں روشنی

    میرے دل صد چاک پر

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    استاد امانت علی خان

    استاد امانت علی خان

    ریشما

    ریشما

    ریشما

    ریشما

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے