سفر ہمارا مقدر
عقیدت کا جذبہ بڑی چیز ہے
اور ہم
جو ابھی نا سمجھ ہیں
لطیفوں کے قائل
ہمیں اتنی فرصت کہاں ہے کہ ڈھونڈیں
بزرگوں کی لکھی ہوئی وہ کتابیں
جو ان کے سفر میں اجالا بنی تھیں
سفر میں تو ہم بھی ہیں
اور آج تم بھی
سفر تو ہمارا مقدر ہے لیکن
ذرا یہ بھی سوچو
اگر ہم کو بھی ڈس لیا ہے بے کراں تیرگی نے
تو کل اپنی لاشوں کا کیا حشر ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.