لنڈا بازار
چلے آؤ بھائی چلے آؤ بھائی
نئی کھیپ کا مال ہے
مفت کے دام ہیں
آئیے صاحبان آئیے
ہر طرح کا یہاں مال موجود ہے
خوش نما قیمتی دیر پا
نت نئے فیشنوں کی تو بھرمار ہے
دیر مت کیجیے
بس چلے آئیے دیکھتے جائیے
مغربی فلسفوں کے اوور کوٹ ہیں
یورپی علم و حکمت کے بنیان ہیں
اور یونان و روما کی دانشوری کی ہیں عمدہ قمیضیں
یہ جرمن تفکر کی پتلون دیکھیں
یہ امریکی خوابوں کے رنگین ٹائی
فرنگی سیاست کی لمبی سی جرسی
فرانسیسیوں کے وجودی تصور کے خم دار مفلر
ادب کی ہیں شالیں
تخیل کے چشمے
ثقافت کی ٹوپی
معیشت کے موزے
ترقی کے جوتے
سماجی کھلونے بھی ڈھیروں ملیں گے
چلے آؤ بھائی چلے آؤ بھائی
یہ بازار ہے
اپنی بستی میں بس اب یہی ایک بازار ہے
اپنی محرومیاں جیب میں ڈال کر
ہم چلے آئے ہیں
آ گئے ہیں کہ اپنے لیے
اہل مغرب کی اترن
یہ کہنہ لبادے
یہ متروک سوچیں خریدیں
خریدیں وہ ملبوس جن میں ہماری نہ خوشبو کوئی
ایسے ملبوس جن کا
ہماری ثقافت روایت ریاضت سے کچھ بھی علاقہ نہیں
کتنے بے بس ہیں ہم
کتنے بے حس بھی ہیں
کس قدر خوش دلی سے
در آمد شدہ فلسفوں اور خیالوں کو اوڑھے ہوئے ہیں
بلا پیش و پس مغربی طرز احساس پہنے ہوئے ہیں
ہماری وجودی شعوری خیالی ضرورت کیا پوری ہوئی؟
شخصیت دب گئی
ذہن بجھ سا گیا
اور ہم جسم سے روح تک
ہو گئے ہیں خود اپنے لیے اجنبی
جیسے دنیا میں اپنی تو کوئی حقیقت نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.