Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لنڈا بازار

سلمان ثروت

لنڈا بازار

سلمان ثروت

MORE BYسلمان ثروت

    چلے آؤ بھائی چلے آؤ بھائی

    نئی کھیپ کا مال ہے

    مفت کے دام ہیں

    آئیے صاحبان آئیے

    ہر طرح کا یہاں مال موجود ہے

    خوش نما قیمتی دیر پا

    نت نئے فیشنوں کی تو بھرمار ہے

    دیر مت کیجیے

    بس چلے آئیے دیکھتے جائیے

    مغربی فلسفوں کے اوور کوٹ ہیں

    یورپی علم و حکمت کے بنیان ہیں

    اور یونان و روما کی دانشوری کی ہیں عمدہ قمیضیں

    یہ جرمن تفکر کی پتلون دیکھیں

    یہ امریکی خوابوں کے رنگین ٹائی

    فرنگی سیاست کی لمبی سی جرسی

    فرانسیسیوں کے وجودی تصور کے خم دار مفلر

    ادب کی ہیں شالیں

    تخیل کے چشمے

    ثقافت کی ٹوپی

    معیشت کے موزے

    ترقی کے جوتے

    سماجی کھلونے بھی ڈھیروں ملیں گے

    چلے آؤ بھائی چلے آؤ بھائی

    یہ بازار ہے

    اپنی بستی میں بس اب یہی ایک بازار ہے

    اپنی محرومیاں جیب میں ڈال کر

    ہم چلے آئے ہیں

    آ گئے ہیں کہ اپنے لیے

    اہل مغرب کی اترن

    یہ کہنہ لبادے

    یہ متروک سوچیں خریدیں

    خریدیں وہ ملبوس جن میں ہماری نہ خوشبو کوئی

    ایسے ملبوس جن کا

    ہماری ثقافت روایت ریاضت سے کچھ بھی علاقہ نہیں

    کتنے بے بس ہیں ہم

    کتنے بے حس بھی ہیں

    کس قدر خوش دلی سے

    در آمد شدہ فلسفوں اور خیالوں کو اوڑھے ہوئے ہیں

    بلا پیش و پس مغربی طرز احساس پہنے ہوئے ہیں

    ہماری وجودی شعوری خیالی ضرورت کیا پوری ہوئی؟

    شخصیت دب گئی

    ذہن بجھ سا گیا

    اور ہم جسم سے روح تک

    ہو گئے ہیں خود اپنے لیے اجنبی

    جیسے دنیا میں اپنی تو کوئی حقیقت نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے