Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دوسرا رخ

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    جھونکا گلی کے موڑ سے نکلا تو دفعتاً

    پیپل کی ایک شاخ کے پتے الٹ گئے

    پتوں کو سامنے سے تو دیکھا ہزار بار

    لیکن اس انقلاب کی مجھ کو خبر نہ تھی

    اک رخ سے دیکھیے تو فقط ایک رنگ ہے

    لیکن اک اور رنگ بھی ہے ماورائے رنگ

    جس کا سراغ صرف انہی کو ملا جنہیں

    موج ہوا کے دست رسا کا شعور ہے

    انسان ہو خدا ہو حقیقت ہو یا گماں

    محسوس ہو رہا ہے کہ اک رخ پہ ہیں رواں

    لیکن ہوا کی زد میں جب آتی ہے ان کی ذات

    اک اور رخ پہ گھومنے لگتی ہے کائنات

    مأخذ :
    • مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے