اور میں لہر نہیں
چاند لرزاں ہے تہہ آب رواں
چاندنی تیری محبت کی طرح
میری نس نس مری رگ رگ میں بسی جاتی ہے
موج دریا سے پرے
موڑ پر نیم کے پیڑوں کی گھنیری شاخیں
بعد شب سے تری زلفوں کی طرح اڑتی ہیں
سرسراتے ہیں ہرے دھان کے کھیت
تیرے ملبوس کی مانند جسے
انگلیاں میری کبھی چھو نہ سکیں
چیر کر خواب میں لپٹا ہوا بے پایاں خلا
تیز رفتار پرندہ شب کا
جو ہما ہے کہ نہ جانے کیا ہے
سن سے گزرا ہے ابھی
تجھ کو پا لینے کی خواہش کی طرح
چاند لرزاں ہے تہہ آب رواں
چاندنی تیری محبت کی طرح
میری نس نس مری رگ رگ میں بسی جاتی ہے
سطح دریا پہ مچلتی ہوئی لہریں مڑ کر
دیکھتی ہیں کہ کناروں کی نمیدہ مٹی
کتنی بے بس ہے سبک سر ہے کہ اک ریلے سے
زیر ہوتی ہے تہہ آب چلی جاتی ہے
اور میں ہوں کہ مجھے
اسی مٹی سے ترے جسم کی باس آتی ہے
اور میں لہر نہیں
چاند لرزاں ہے تہہ آب رواں
چاندنی تیری محبت کی طرح
میری نس نس مری رگ رگ میں بسی جاتی ہے
دور تک ریت پہ پھیلے ہوئے قدموں کے نشاں
مجھ سے کہتے ہیں کہ اس ساحل پر
لوگ آتے ہیں فقط چند ہی لمحوں کے لیے
کھود کر چند پرانے قصے
ڈھونڈ کر چند پرانی یادیں
روند کر اپنے ہی قدموں کے نشاں
لوٹ جاتے ہیں خدا جانے کہاں
میں کہ آیا ہوں یہاں
چند لمحے نہیں شب ساری بتانے کے لیے
کھود کر سارے پرانے قصے
ڈھونڈ کر ساری پرانی یادیں
رت جگا مرگ محبت کا منانے کے لیے
نقش پا اپنے بھی تیرے بھی مٹانے کے لیے
اور پھر اس پہ ہے یہ ظلم کہ یہ چاندنی شب
یہ مچلتی ہوئی لہریں یہ پری چہرہ زمیں
ہے ترے حسن پر اسرار کی مانند حسیں
لوٹ کر جا بھی سکوں گا کہ نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.