پیش گوئی
تماشے کی حقیقت کھل چکی ساری
سبھی رستوں سے آ کر آ ملے ہیں موت کے پیاسے
ہماری صبح گھائل ہو کے اب دم توڑتی ہوگی
کسی ویراں سرائے میں
ہمارا آسماں بھی ٹوٹ کر ساگر کے کالے پانیوں میں
ریزہ ریزہ گھل چکا ہوگا
ہم اپنی چھت پہ چڑھ کر موت کو للکارتے ہوں گے
وہ تھک کر سو چکی ہوگی
اور اس کی چھاتیوں میں گرم نیزے گڑ چکے ہوں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.