بھوک
بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے
ہنستے انسان کو یک لخت رلا دیتی ہے
بھوک کے سامنے تلقین بھی ہے بے معنی
بھوک عاقل کو بھی دیوانہ بنا دیتی ہے
بھوک مطلب نہیں رکھتی کبھی خودداری سے
بھوک انساں کو خودی سے بھی ہٹا دیتی ہے
بھوک کے سامنے بونے ہیں قواعد سارے
بھوک تہذیب و تمدن کو مٹا دیتی ہے
پیٹ کی آگ بجھانی ہے ضروری ورنہ
موت کی نیند بھی یہ بھوک سلا دیتی ہے
بھوک کے سامنے وحشی کی حقیقت کیا ہے
بھوک انساں کو درندہ بھی بنا دیتی ہے
بھوک قاتل بھی بنا دیتی ہے انسانوں کو
اور کبھی دار پے یہ بھوک چڑھا دیتی ہے
بھوک کیا جانے حیا کیا ہے شرافت کیا ہے
بھوک تو شرم کے پردے بھی اٹھا دیتی ہے
بھوک ہی لے کے چلی جاتی ہے اوباشوں میں
بھوک ہی عصمتیں نیلام کرا دیتی ہے
بھوک آ جائے اگر غیظ میں ارشادؔ کبھی
تو شہنشاہوں کے بھی تخت ہلا دیتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.