Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بھوک

MORE BYارشاد دہلوی

    بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے

    ہنستے انسان کو یک لخت رلا دیتی ہے

    بھوک کے سامنے تلقین بھی ہے بے معنی

    بھوک عاقل کو بھی دیوانہ بنا دیتی ہے

    بھوک مطلب نہیں رکھتی کبھی خودداری سے

    بھوک انساں کو خودی سے بھی ہٹا دیتی ہے

    بھوک کے سامنے بونے ہیں قواعد سارے

    بھوک تہذیب و تمدن کو مٹا دیتی ہے

    پیٹ کی آگ بجھانی ہے ضروری ورنہ

    موت کی نیند بھی یہ بھوک سلا دیتی ہے

    بھوک کے سامنے وحشی کی حقیقت کیا ہے

    بھوک انساں کو درندہ بھی بنا دیتی ہے

    بھوک قاتل بھی بنا دیتی ہے انسانوں کو

    اور کبھی دار پے یہ بھوک چڑھا دیتی ہے

    بھوک کیا جانے حیا کیا ہے شرافت کیا ہے

    بھوک تو شرم کے پردے بھی اٹھا دیتی ہے

    بھوک ہی لے کے چلی جاتی ہے اوباشوں میں

    بھوک ہی عصمتیں نیلام کرا دیتی ہے

    بھوک آ جائے اگر غیظ میں ارشادؔ کبھی

    تو شہنشاہوں کے بھی تخت ہلا دیتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے