دیکھنا کچھ چاہیئے کچھ کر دکھانا چاہیئے
پردۂ غفلت کو آنکھوں سے ہٹانا چاہیئے
دل کو باہم گرد کینہ سے بچانا چاہیئے
دامن اخلاق پر دھبہ نہ آنا چاہیئے
کوئی خاکہ زندگی کا کوئی تصویر عمل
چھوڑ کر اس عالم فانی سے جانا چاہیئے
کار فرما ہے تمدن جب کہ اپنی ذات میں
پھر ہمیں اک دوسرے کے کام آنا چاہیئے
عقل و دانش لوٹ لیتی ہے غلامی کی شراب
حریت کا جام ہوش افزا چڑھانا چاہیئے
جس طرح رکتا نہیں ہے سیل دریا جوش میں
یوں قدم راہ ترقی میں بڑھانا چاہیئے
کاہلی میں اور محنت میں ہے یہ فرق عمل
اس کو اک پل صرف اس کو اک زمانہ چاہیئے
چاہیئے ہم کو نہ ہمدم غیر کا چنگ و رباب
ساز اپنا چاہیئے اپنا ترانہ چاہیئے
چل رہی ہے شعلہ زا باد مخالف تند و تیز
آتش تفریق سے دامن بچانا چاہیئے
جس سے بنتا ہو لباس اتحاد و اتفاق
ایسا تانا چاہیئے اور ایسا بانا چاہیئے
پڑ رہی ہے پھولوں پر گلچیں کی دزدیدہ نظر
نوجوانان چمن کو سر اٹھانا چاہیئے
رو سیہ حاسد نہ پائے اب کہیں چھپنے کی جا
شمع خلق باہمی گھر گھر جلانا چاہیئے
جرم عصیاں کے لئے درکار ہے حیلہ کوئی
شان رحمت کے لئے کوئی بہانہ چاہیئے
کیجیے کچھ ذکر و فکر دور مستقبل جمالؔ
جا چکا جو وقت اس کو بھول جانا چاہیئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.