Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

افسون خواب

پروفیسر شور

افسون خواب

پروفیسر شور

MORE BYپروفیسر شور

    اڑ رہی ہیں از زمیں تا آسماں

    دامن لیلائے شب کی دھجیاں

    وقت کے ماتھے پہ ہے صدیوں کی دھول

    مل رہا ہے چاند چہرے پر بھبول

    بجھ رہے ہیں نجم و ماہ و کہکشاں

    ہو چکا گل ہر چراغ آسماں

    اونگھتے سائے شجر سوئے ہوئے

    قصر سوئے بام و در سوئے ہوئے

    عرش و فرش و بحر و بر ہیں محو خواب

    موت ہے عمر رواں کے ہم رکاب

    جلوہ گاہوں میں طرب خانوں میں نیند

    محفلوں میں نیند ایوانوں میں نیند

    کوچہ و بازار ساکت ہو گئے

    بحر کے سینے میں طوفاں کھو گئے

    دجلۂ تہذیب میں طوفاں نہیں

    عقل کے فتنے بلائے جاں نہیں

    ہوش کے دوزخ کا لاوا سرد ہے

    مطلع فکر و نظر بے گرد ہے

    کر کے پنہاں آستینوں میں صنم

    سو گئے کتنے یہودان حرم

    وہ بھی زنگی سو رہے ہیں رات میں

    ہیں خجل آئینے جن کے ہات میں

    رکھ دیا ہے ایسے بہروں نے بھی ساز

    جو بھرے مجمعوں میں ہوں نغمہ طراز

    ہو چکے وہ کور بھی مصروف خواب

    جن کی نظروں سے ہیں لرزاں آفتاب

    ہو کے تنقیدوں کے چھجوں پر سوار

    فکر کے بونے نہیں مصروف کار

    کھا چکے ہیں رات کے ترکش کا تیر

    شہر بھر کے غالب و حالی و میر

    صید بھی ہیں دام میں صیاد بھی

    حضرت فن کار بھی نقاد بھی

    کر کے پورا اپنا اپنا بیوپار

    سو رہے ہیں فکر و فن کے سود خوار

    رکھ کے سو نشتر رگ جاں کے قریب

    جا چکے گھر قہوہ خانوں کے ادیب

    بک چکی تنقید کی جنس گراں

    بند ہے شعر و ادب کی ہر دکاں

    ہو چکا فکر و نظر کا مول تول

    چڑھ چکا سورج پہ تاریکی کا خول

    جہل کے نشتر نہ دانش کا گزند

    سو رہے ہیں کیسے کیسے حلقہ بند

    وہ بھی محو خواب ہیں عالی مقام

    جن کی پیشانی پہ لکھا ہے غلام

    با وجود منصب و تمکین و جاہ

    جن کا قامت ناپ لیتی ہے نگاہ

    ان کی گردن میں بھی ہے شب کی طناب

    خون فن و فکر ہے جن کی شراب

    چادریں تانے ہیں وہ بھی سود خوار

    بندگی بھی جن کی ہے یزداں شکار

    ان کے محلوں پر بھی ہے شب کی کمند

    چل کے لاشوں پر جو ہوتے ہیں بلند

    صبح کی کرنوں سے بھر کر اپنا جیب

    لے رہا ہے دم اندھیرے کا فریب

    بھوک بھی خوابیدہ ہے افلاس بھی

    فکر بھی سوئی ہے اور احساس بھی

    بس بھری کوئی ہنسی ہنستا نہیں

    آدمی کو آدمی ڈستا نہیں

    اب کسی چہرے پہ عیاری نہیں

    اب کوئی آئینہ زنگاری نہیں

    یوں سکوت شب میں ہوتا ہے گماں

    جیسے ساکت ہو گئی عمر رواں

    خواب کا مرہم ہے زخم زیست پر

    سی رہی ہے رات ہر زخم جگر

    رات کہتی ہے مرا اک جام پی

    سی سکے تو زخم دل کا چاک سی

    جاگتے ہی جاگتے سو جاؤں میں

    ایک شہر خواب میں کھو جاؤں میں

    مجھ کو رہ رہ کر مگر ہوتا ہے غم

    کل یہ فتنے جاگ اٹھیں گے صبح دم

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے