کوہ ندا کا بلاوا
آج بھی سارا دن وہ بھٹکتا رہا
ایک اک در پہ جا جا کے کہتا رہا
نوکری نوکری نوکری
اس نے دو روز سے
کچھ بھی کھایا نہ تھا
اور پھر آج بھی
دن یونہی ڈھل گیا
زندگی سے وہ بیزار سا ہو گیا
اک جگہ بیٹھ کر سوچ میں کھو گیا
زندگی زندگی زندگی
زندگی رو پڑی
اور پھر یک بہ یک ایک آواز سی
اس کے کانوں میں اس طرح آنے لگی
یا اخی یا اخی یا اخی
دفعتاً وہ اٹھا
اور جانے لگا
زیر لب اس طرح بڑبڑاتا ہوا
خودکشی خودکشی خودکشی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.