کہی اور ان کہی کے درمیان بے سدھ پڑی ایک نظم
روپہلے بدن کی سیہ پوش لڑکی
یہ کیا کہہ دیا تم نے خاموش لڑکی
یہ کیا کہہ دیا تم نے
شفاف لہروں میں پڑتے ہوئے نیلگوں عکس کو
ایک موج قد آور کے ہوتے ہوئے رقص کو
یہ کیا کہہ دیا تم نے
جنگل کی بارش میں سہمی ہوئی بھیگتی مورنی سے
مرے ساز خاموش کی ان کہی راگنی سے
یہ کیا کہہ دیا تم نے وشنو کی رنگت کو اوڑھے ہوئے
نیلے موسم کے دل دادہ اک اجنبی شخص کو
رفاقت کے لمحات میں کانپنے کے سلیقے سے نا آشنا
منحنی شخص کو
یہ کیا کہہ دیا تم نے
اپنی ریاضت کو تج کر چٹختی ہوئی ہڈیوں کی نمائش پہ مجبور بام ہوس پر کھڑی بیسوا موسموں کی کثافت میں مخمور بہرے تمدن کی یلغار سے
یہ کیا کہہ دیا تم نے خاموش لڑکی
کبھی وہ بھی کہہ دو کہ جو گفتگو کی حدوں سے سوا ہے
سخن کے حسیں سلسلہ ہائے پر شوق سے ماورا ہے
کہا ہوتا کچھ تم نے باتونی لڑکی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.