Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کہی اور ان کہی کے درمیان بے سدھ پڑی ایک نظم

محمد افتخار شفیع

کہی اور ان کہی کے درمیان بے سدھ پڑی ایک نظم

محمد افتخار شفیع

MORE BYمحمد افتخار شفیع

    روپہلے بدن کی سیہ پوش لڑکی

    یہ کیا کہہ دیا تم نے خاموش لڑکی

    یہ کیا کہہ دیا تم نے

    شفاف لہروں میں پڑتے ہوئے نیلگوں عکس کو

    ایک موج قد آور کے ہوتے ہوئے رقص کو

    یہ کیا کہہ دیا تم نے

    جنگل کی بارش میں سہمی ہوئی بھیگتی مورنی سے

    مرے ساز خاموش کی ان کہی راگنی سے

    یہ کیا کہہ دیا تم نے وشنو کی رنگت کو اوڑھے ہوئے

    نیلے موسم کے دل دادہ اک اجنبی شخص کو

    رفاقت کے لمحات میں کانپنے کے سلیقے سے نا آشنا

    منحنی شخص کو

    یہ کیا کہہ دیا تم نے

    اپنی ریاضت کو تج کر چٹختی ہوئی ہڈیوں کی نمائش پہ مجبور بام ہوس پر کھڑی بیسوا موسموں کی کثافت میں مخمور بہرے تمدن کی یلغار سے

    یہ کیا کہہ دیا تم نے خاموش لڑکی

    کبھی وہ بھی کہہ دو کہ جو گفتگو کی حدوں سے سوا ہے

    سخن کے حسیں سلسلہ ہائے پر شوق سے ماورا ہے

    کہا ہوتا کچھ تم نے باتونی لڑکی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے