آرزو
ہر طرف خموشی ہو
صبح نو بہاراں ہو
یا نسیم سحری ہو
دل ربا نظارا ہو
دوپہر کی گرمی ہو
شام ہو دسمبر کی
ہر طرف اندھیرا ہو
تارے جھلملاتے ہوں
رات جگمگاتی ہو
دوستوں کے جھرمٹ میں
خلوتوں کے موسم میں
درد لا دوا اٹھے
شہر کی خموشی میں
حرف بے صدا اٹھے
بے طرح اداسی ہو
فرصتیں میسر ہوں
کون سے مکاں سے بھی
سود سے زیاں سے بھی
کچھ سمجھ نہ آئے جب
کچھ بھی بن نہ پائے جب
دل کی آرزو ہے یہ
یاد یار مٹ جائے
اس کو بھول جائیں ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.