کلوننگ
زمانہ عدالت نہیں ہے
مگر
اک مقدمہ عدالت میں صدیوں سے زیر سماعت ہے زیر سماعت رہے گا
کٹہرے میں انصاف کی منتظر لڑکیاں
کیسے پوری گواہی خریدیں گی میک اپ کی قیمت تو
پہلے ہی اتنی زیادہ ہے فیشن بدلنے میں ہفتہ بھی لگتا نہیں
اور
پالیسیاں ان خواتین کی تو بدلتی نہیں
جن سے مردوں کی طاقت کو خطرہ ہی رہتا ہے
مہنگی دواؤں کے زیر اثر فوبیا دیو عورت کا فاتح
ادھوری اذیت اٹھائے
پشیمانیوں کے سفر سے ہر اک واپسی پر نئی کامرانی کے مژدے سناتا رہا ہے
نئے قید خانے بناتا رہا ہے
سنا ہے کہ اب اس نے ساری پشیمانیوں سے نکلنے کی وہ رہ نکالی ہے جس پر اسے میری کوئی ضرورت نہ ہوگی
وہ اپنے ہی اک سیل سے اپنی طرح کا کوئی اور آدم بنا لے گا
زیر سماعت رہے گا مقدمہ اگرچہ زمانہ عدالت نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.