Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ذکر اس پری وش کا

کمار پاشی

ذکر اس پری وش کا

کمار پاشی

MORE BYکمار پاشی

    تمہی نے تو مجھ سے کہا تھا کہ میں

    بے کراں وسعتوں کا احاطہ کروں

    اور پھیلی ہوئی اس زمیں کا سہانا

    بدن اپنے بوسوں سے گلنار کر دوں

    مگر تب تلک چھا چکے تھے مرے سر پہ بادل حیا کے

    مرے سامنے رونقیں تھیں جواں تازگی تھی

    مگر میں

    ہر اک رنگ سے اپنی بے گانگی مشتہر کر چکا تھا

    مرے سامنے تم کھڑی تھیں

    نگاہوں میں ٹھنڈے جواں چاند کی روشنی کو چھپائے

    یہ اس عہد کا اک لطیفہ ہے

    جب میں

    خلا میں بھٹکتے ہوئے بادلوں کی طرح

    زندگی کے ہر اک حسن پر

    اک اچٹتی نظر ڈال کر چل رہا تھا

    کئی ساگروں پربتوں سے گزر کر

    وہ سائے نجانے کہاں کھو گئے ہیں

    میں اب راستے کے ہر اک موڑ سے پوچھتا ہوں

    کہ پچھلے جنم میں

    ادھر سے گزرتے ہوئے تم نے دیکھا اس کو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے