یادوں کے مزار
شعلۂ رخسار ترا بجھ گیا
جائے بہلنے کو مرا دل کہاں
حوصلے تاریک اگر ہو گئے
پیار مرا پائے گا منزل کہاں
چاند بھی تھا ماند ترے سامنے
اف وہ ترے حسن کی تابندگی
لگ نہ سکی اپنی پلک سے پلک
جاگتے گزری ہے مری زندگی
آنکھ تو لگتی نہیں اب بھی مگر
اب وہ تڑپ روح میں شامل کہاں
زیست کے جس نوحہ کناں موڑ پر
ہو گئے با دیدۂ تر ہم جدا
آج بھی آتی ہے وہاں چاندنی
پوچھنے لوگوں سے ہمارا پتا
اب وہ کہاں قہقہے جذبات کے
آج وہ گزری ہوئی محفل کہاں
آتی تھی اک موج حوادث کبھی
تجھ کو بھی جو ساتھ بہا لے گئی
کون سے گل رنگ جزیرے ہیں وہ
جس میں ہوا تجھ کو اڑا لے گئی
مجھ کو تری آج بھی ہے جستجو
پر مری تقدیر میں ساحل کہاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.