منصب
کتنے اوہام خیالی کی پرستار ہے تو
پھول کو چھوڑ کے خوشبو کی طلب گار ہے تو
میری محبوب یہ کس دور کا کردار ہے تو
تیری بے لوث تمنا سے تو انکار نہیں
عاشقی عزت و ناموس کی دیوار نہیں
اپنی ہی آگ میں جلنا کوئی ایثار نہیں
تیرا اخلاص بجا ہے مگر اے جان وفا
اس قدر پاکیٔ داماں کی حکایت نہ بڑھا
ہم ہیں انساں نہ ولی ہیں نہ پیمبر نہ خدا
یہ طہارت کا تصور تو فلاطونی ہے
دولت حسن بچانا بھی تو قارونی ہے
بن ترے خلد محبت کی فضا سونی ہے
کب تلک کوئی غم ہجر کا تلخاب پئے
کب تلک کوئی مرے خوابوں کی جنت کے لیے
عشق خوشبو ہے یہ کب تک کوئی خوشبو پہ جئے
تہمت وصل اٹھانا تو کوئی جرم نہیں
پیار کا جشن منانا تو کوئی جرم نہیں
اس پہ مرتا ہے زمانہ تو کوئی جرم نہیں
جسم اک زندہ حقیقت ہے نگاہوں کے لیے
جھول جانا ہی تو معراج ہے باہوں کے لیے
دہر میں آتا ہے انسان گناہوں کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.