سیلف میڈ
غبار جاں میں شعور جس دم پنپ رہا تھا
یہ راز مجھ پر عیاں ہوا تھا
کہ ریزہ ریزہ میں خود کو اپنے ہی بازوؤں سے اٹھا رہا ہوں
نہ جانے کیسے
بغیر دیکھے میں اپنی آنکھیں بنا رہا ہوں
میں زندگانی کے چاک پر اک ادھورا کوزہ
جو آپ اپنا ہی کوزہ گر تھا
تو خود کو تخلیق کیسے کرتا
میں اپنی تشکیل کیسے کرتا
مری بناوٹ کے مرحلوں میں
نہ کوئی دست ہنر ہے شامل
مرے تخیل کے آئنے میں
نہ کوئی صورت مرے مقابل
جہاں تغیر کے سلسلے تھے
بکھر رہے تھے مرے عناصر
کوئی نہیں تھا
کوئی نہیں تھا جو شخصیت کے شگاف بھرتا
طرازیت کے نقوش گھڑتا
کف مہارت کی ایک جنبش
مری شباہت ابھار دیتی
یہ خام پیکر سنوار دیتی
مگر وہ جذبہ کہ جس نے مجھ کو
یہ خام پیکر سنوارنے میں فعال رکھا
وجود میرا سنبھال رکھا
کہ میں نے خود کو تراش ڈالا
خود آپ اپنے قیاس ہی پر
بقا کے واضع جواز ہی پر
میں خود گری میں کسی بہانے سے کوئی تاخیر کیسے کرتا
میں خواب رہتا تو خواب تعبیر کیسے کرتا
یہ چاک گردش تھمی تو مجھ کو گمان گزرا
میں ان بنا سا ہی رہ گیا ہوں
مگر نگاہیں اٹھیں تو دیکھا
وہ سارے کوزے
ہنر وری کی جو دسترس میں ظہور پائے
جمالیاتی کسک تو وہ بھی لئے ہوئے ہیں
پئے تقابل میں اپنی تذلیل کیسے کرتا
میں خود پہ تنقید کیسے کرتا
سو آج جو کچھ بھی بن گیا ہوں
اگرچہ اوروں سے کچھ جدا ہوں
میں اپنی سوچوں کا آئنہ ہوں
میں اپنی محنت کا خود صلہ ہوں
میں زندگانی کے چاک پر بے مثال کوزہ
جو آپ اپنا ہی کوزہ-گر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.