Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سیلف میڈ

سلمان ثروت

سیلف میڈ

سلمان ثروت

MORE BYسلمان ثروت

    غبار جاں میں شعور جس دم پنپ رہا تھا

    یہ راز مجھ پر عیاں ہوا تھا

    کہ ریزہ ریزہ میں خود کو اپنے ہی بازوؤں سے اٹھا رہا ہوں

    نہ جانے کیسے

    بغیر دیکھے میں اپنی آنکھیں بنا رہا ہوں

    میں زندگانی کے چاک پر اک ادھورا کوزہ

    جو آپ اپنا ہی کوزہ گر تھا

    تو خود کو تخلیق کیسے کرتا

    میں اپنی تشکیل کیسے کرتا

    مری بناوٹ کے مرحلوں میں

    نہ کوئی دست ہنر ہے شامل

    مرے تخیل کے آئنے میں

    نہ کوئی صورت مرے مقابل

    جہاں تغیر کے سلسلے تھے

    بکھر رہے تھے مرے عناصر

    کوئی نہیں تھا

    کوئی نہیں تھا جو شخصیت کے شگاف بھرتا

    طرازیت کے نقوش گھڑتا

    کف مہارت کی ایک جنبش

    مری شباہت ابھار دیتی

    یہ خام پیکر سنوار دیتی

    مگر وہ جذبہ کہ جس نے مجھ کو

    یہ خام پیکر سنوارنے میں فعال رکھا

    وجود میرا سنبھال رکھا

    کہ میں نے خود کو تراش ڈالا

    خود آپ اپنے قیاس ہی پر

    بقا کے واضع جواز ہی پر

    میں خود گری میں کسی بہانے سے کوئی تاخیر کیسے کرتا

    میں خواب رہتا تو خواب تعبیر کیسے کرتا

    یہ چاک گردش تھمی تو مجھ کو گمان گزرا

    میں ان بنا سا ہی رہ گیا ہوں

    مگر نگاہیں اٹھیں تو دیکھا

    وہ سارے کوزے

    ہنر وری کی جو دسترس میں ظہور پائے

    جمالیاتی کسک تو وہ بھی لئے ہوئے ہیں

    پئے تقابل میں اپنی تذلیل کیسے کرتا

    میں خود پہ تنقید کیسے کرتا

    سو آج جو کچھ بھی بن گیا ہوں

    اگرچہ اوروں سے کچھ جدا ہوں

    میں اپنی سوچوں کا آئنہ ہوں

    میں اپنی محنت کا خود صلہ ہوں

    میں زندگانی کے چاک پر بے مثال کوزہ

    جو آپ اپنا ہی کوزہ-گر ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے