رضیہ سلطانہ
زیست ہے کارگہ آہن گر
جان سوزی ہے یہاں اصل ہنر
میں نے تاریخ میں لکھا خوں سے
تخت ہوتا نہیں جاگیر پسر
میں نے اس تخت کو زینت بخشی
میں نے بدلا ہے زمانے کا سفر
دست تقدیر نگوں ہو جائے
گر ہو تدبیر میں ہمت کا اثر
جذبۂ شوق میں اے اہل جہاں
بے خودی سب سے فزوں تر ہے سپر
دم شمشیر سے ہوتی ہے عطا
غیرت قوم نہیں حاصل زر
تیرگی ہے صفت اہل جفا
نور آفاق ہے عاشق کا جگر
موت تمغہ ہے انہی لاشوں کا
روح میں جن کے ہے ایقاں کا گہر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.