یہاں میں نہیں ہوں
یہاں میں نہیں ہوں
مجھے گھر سے نکلے ہوئے اک زمانہ ہوا ہے
کئی سال گزرے
مجھے دامن کوہ سے
چند مانوس قدموں کی آواز آئی
پراسرار آبادیوں کے کسی گھر میں کانوں نے
اک عنبریں ہاتھ کی کوئی مالوف دستک سنی تھی
مگر دوسری شب مجھے اپنے خوں گشتہ پاؤں کسی رہ گزر پر ملے تھے
مگر ہونٹ میرے سلے تھے
حسینان عنبر ذوائب سے دوری میں انسانیت کی بقا ہے
بندھا ہوں یہیں پر
وہ آواز سن کر بھی اپنے دکھوں کے طویلے سے نکلا نہیں ہوں
یہاں میں نہیں ہوں
مجھے گھر سے نکلے ہوئے اک زمانہ ہوا ہے
مجھے جانتے ہو
ابھی تک یہیں ہوں
میں بازار تہذیب کا معجزہ ہوں
مرے زمزموں میں
کہیں رنگ و آہنگ بھی آ گئے ہیں
مرے سر پہ بے مہر اور بے مراد آسماں ہے
کہ پیروں تلے اک ستم گر زمیں ہے
زمیں بھی کہیں ہے
ہمہ مقتدر ہستیاں میرے مد مقابل
قلعہ بندیوں میں الجھنے لگی ہیں
تمہیں کیوں دکھائی نہیں دے رہی ہیں
ابھی تک یہیں ہوں
مگر میں نہیں ہوں
کہیں گم شدہ بستیوں کے فسوں ساز رستوں میں
اک نقرئی اسپ تازہ پہ بیٹھا ہوا میں
سحر اور افسوں کے سب ضابطے ڈھونڈتا ہوں
تھکے ماندے عیاش لوگوں کے جیون میں پھیلی کراہت زدہ دوستی اور محبت کی معصومیت سے بھری زندگی کے حسیں رابطے ڈھونڈتا ہوں
اور اس غم کدے میں
مرے غم کی ماری
وہ کندن کنواری
وہ ناری اور اس کے حسیں رس بھرے ہونٹ
میں جن کی خاطر کئی سال مر مر کے جیتا رہا ہوں
انہیں سرخ ہونٹوں کے رس کو برس ہا برس
جشن نوروز پر ایک ٹانک کی صورت میں پیتا رہا ہوں
کہاں ہے وہ ناری مرے غم کی ماری
میں کڑیل جوان اور وہ کندن کنواری
میں کندن کنواری کے حسن گراں مایہ کی دعوت بے بہا پر بھی اپنے غموں کے جھمیلے سے نکلا نہیں ہوں
یہاں میں نہیں ہوں
مجھے گھر سے نکلے ہوئے اک زمانہ ہوا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.