Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہاں میں نہیں ہوں

محمد افتخار شفیع

یہاں میں نہیں ہوں

محمد افتخار شفیع

MORE BYمحمد افتخار شفیع

    یہاں میں نہیں ہوں

    مجھے گھر سے نکلے ہوئے اک زمانہ ہوا ہے

    کئی سال گزرے

    مجھے دامن کوہ سے

    چند مانوس قدموں کی آواز آئی

    پراسرار آبادیوں کے کسی گھر میں کانوں نے

    اک عنبریں ہاتھ کی کوئی مالوف دستک سنی تھی

    مگر دوسری شب مجھے اپنے خوں گشتہ پاؤں کسی رہ گزر پر ملے تھے

    مگر ہونٹ میرے سلے تھے

    حسینان عنبر ذوائب سے دوری میں انسانیت کی بقا ہے

    بندھا ہوں یہیں پر

    وہ آواز سن کر بھی اپنے دکھوں کے طویلے سے نکلا نہیں ہوں

    یہاں میں نہیں ہوں

    مجھے گھر سے نکلے ہوئے اک زمانہ ہوا ہے

    مجھے جانتے ہو

    ابھی تک یہیں ہوں

    میں بازار تہذیب کا معجزہ ہوں

    مرے زمزموں میں

    کہیں رنگ و آہنگ بھی آ گئے ہیں

    مرے سر پہ بے مہر اور بے مراد آسماں ہے

    کہ پیروں تلے اک ستم گر زمیں ہے

    زمیں بھی کہیں ہے

    ہمہ مقتدر ہستیاں میرے مد مقابل

    قلعہ بندیوں میں الجھنے لگی ہیں

    تمہیں کیوں دکھائی نہیں دے رہی ہیں

    ابھی تک یہیں ہوں

    مگر میں نہیں ہوں

    کہیں گم شدہ بستیوں کے فسوں ساز رستوں میں

    اک نقرئی اسپ تازہ پہ بیٹھا ہوا میں

    سحر اور افسوں کے سب ضابطے ڈھونڈتا ہوں

    تھکے ماندے عیاش لوگوں کے جیون میں پھیلی کراہت زدہ دوستی اور محبت کی معصومیت سے بھری زندگی کے حسیں رابطے ڈھونڈتا ہوں

    اور اس غم کدے میں

    مرے غم کی ماری

    وہ کندن کنواری

    وہ ناری اور اس کے حسیں رس بھرے ہونٹ

    میں جن کی خاطر کئی سال مر مر کے جیتا رہا ہوں

    انہیں سرخ ہونٹوں کے رس کو برس ہا برس

    جشن نوروز پر ایک ٹانک کی صورت میں پیتا رہا ہوں

    کہاں ہے وہ ناری مرے غم کی ماری

    میں کڑیل جوان اور وہ کندن کنواری

    میں کندن کنواری کے حسن گراں مایہ کی دعوت بے بہا پر بھی اپنے غموں کے جھمیلے سے نکلا نہیں ہوں

    یہاں میں نہیں ہوں

    مجھے گھر سے نکلے ہوئے اک زمانہ ہوا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے